Friday, 22 April 2016

میلسی محکمۂ ایکسائز کے ڈرائیور کی کرپشن


میلسی: محکمہ ایسائز کے ڈرائیور نے انسپکٹر بن کر ناکے لگا لئیے، رشوت اور بھتہ خوری عروج پراور افسران بے بس
محکمہ ایسائز کے ڈرائیور نے انسپکٹر بن کر ناکے لگا لئیے ،لوت مار کر کے کروڑوں روپے کی جائیداد بنا لی ،افسران بے بس ،رشوت اور بھتہ خوری عروج پر تفصیل کے مطابق مھکمہ ایسائیز اینڈ ٹیکشیشن میلسی مین طویل عرصہ سے تعینات ڈرائیور ممتاز نے جلعل وہاڑی کے تمام ایسائیز افسران کے اختیارات سنبھال رکھے ہیں سرکاری گاڑی اور اہلکاروں کے ہمراہ خود انسپکٹر بن کر سرعام ناکے لگا لیتا ہے اور موٹر سائیکل گاڑیاں چیک کرنے کے بہانے لوٹ مار کرتا ہے اس لوٹ مار کے زرئیے اس نے ملتان روڑ پر آڑھائی کروڑ روپے مالیت کی عالیشان کوٹھی بنا رکھی ہے جس میں 4ائیر کنڈیشنر ،کفیہ کیمرے لگے ہوئے ہیں اور خاندان کی خدمت کےلئے تین نوکر اور ایک نوکرانی رکھی ہوئی ہے کوٹھی میں لاکھوں روپے کا اعلی قسم کا فرنیچر سجا رکھا ہے زراع کے مطابق ایک 2010ماڈل جی ایل آئی گاڑی اور ملتان میں قیمتی پلاٹ بھی لے رکھے ہیں میلسی میں تعینات انسپکٹر فخر امام نے منتھلیاں اور بھتہ وصولی کےلئے اسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ای ٹی او سمیت کوئی بھی غیر قانونی کام کرانے کا ماہر ہے جس کی وجہ سے سیاسی لوگ محکمہ ایسکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران کو کام کہنے کی بجائے ڈرائیور ممتاز سے رابطہ کرتے ہیں میلسی میں قائم تمام موٹر سائیکل اور کار کے شو روم سے اس کے رابطے ہیں ہر قسم کی چوری ،ڈکیٹی اور دونمبر کاموں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے کاغزات بنوا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے میلسی میں بےشمار گاڑیاں مشکوک موجود ہیں زرائع کے مطابق ڈرائیور خود دعوی کرتا ہے کہ محکمہ کے اعلی افسران تک اس کی رسائی ہے اس لئے میرا کام نیہں روکا جاتا جو کام ای ڈی او لیول کا افس نہ کرا سکے قہ میں کرا سکتا ہوں شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ،چئیر پر سن پنجاب محکمہ ایسائیز شازیہ خان سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن کے بادشاہ کی کروڑوں کی جائیداد کا کیس نیب کو بھیجا جائے

Friday, 8 April 2016

Monday, 28 March 2016

محمد اکرم: چھوٹے ضلع کا بڑا کاریگر

'ایک دفعہ میرے ہمسائے میں موجود تانگے والے کو کہیں جانا تھا اور اس کیلئے اپنے گھوڑے کی دیکھ بھال کیلئے پیچھے کسی چھوڑنا ایک مسئلہ بنا ہوا تھا۔پھر ایک دن تانگے پر بیٹھے کوچوان کو بڑی بے دردی سے گھوڑے  کو مارتے ہوئے دیکھا تو دل میں احساس پیدا ہوا کہ کیوں نہ گھوڑے کی جگہ موٹر سائیکل لگا کر اسے جدید شکل دے دی جائے۔'یہ تھے وہ محرکات جنہوں نے وہاڑی کے ایک مکینک محمد اکرم کو پاکستان میں پہلا موٹر سائیکل رکشہ بنانے پر مجبور کیا۔پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو روزگار اور سستی سفری سہولت 'موٹر سائیکل رکشہ یا چاند گاڑی' دینے کے دعویدار حاجی اکرم کی اس سلسلے میں محنت، جدوجہد اور قانونی لڑائی آپ اپنے اندر ایک مثال ہے۔سعودیہ سے پلٹ کر وہاڑی بازار میں خراد کا کام شروع کرنیوالے پانچویں پاس محمد اکرم کے پاس کوئی اعلیٰ تعلیمی ڈگری تو نہ تھی البتہ ایک وسیع تجربہ اور تخلیقی صلاحیتیں ضرور موجود تھیں۔ان کا پورا نام حاجی محمد اکرم عاصی مغل ہے اور اس وقت ان کی 505 روڈ، وہاڑی پر رکشہ میکنگ کی اپنی دکان ہے۔اپنے تخلیقی پہلو کے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ؛"وسائل کم ہونے کے باوجود میں نے اپنے خیال کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی اور آخر کار دن رات محنت کے بعد 1989ء میں پہلا موٹرسائیکل رکشہ تیار کر لیا۔"حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ پہلا تیار ہونے والا موٹر سائیکل رکشہ آرام دہ نہ تھا اور اس پر بمشکل ہی چھ سواریاں بیٹھ سکتی تھیں۔'اس رکشہ کی حد رفتار بھی 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ تاہم اس میں مزید جدت پیدا کرتے ہوئے سات سواریوں کے بیٹھنے کی گنجائش پیدا کر دی گئی۔'ان کے مطابق موٹر سائیکل رکشہ کو 1990ء میں ایک عوامی سواری کے طور پر مارکیٹ میں متعارف کروایا گیا۔'شروع میں رکشہ کیساتھ پرانے ٹو سٹروک یاماہا اور سوزوکی موٹر سائیکل لگائے جاتے تھے کیونکہ ٹو سٹروک موٹر سائیکل فور سٹروک کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ تجربات کے بعد سوزوکی موٹر سائیکل کو سب سے زیادہ کامیاب قرار دیا گیا۔' حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ پہلی بار احمد پور کے بیو پاریوں نے نئی موٹر سائیکل کے ساتھ رکشہ تیار کروایا تھا، جو بہت کامیاب تجربہ ثابت ہوا پھر یہ بہاولپور اور حاصل پور میں بھی عام ہوگیا۔موٹر سائیکل رکشہ بنا لینا کافی ثابت نہ ہوا کیونکہ مارکیٹ میں آتے ہی اس پر خطرناک سواری ہونے کا لیبل لگا کر اس کی راہ روکنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔'چونکہ موٹر سائیکل رکشہ کے آنے سے تانگے اور آٹو رکشہ مالکان خفا تھے چنانچہ ان کی یونین نے موٹر سائیکل رکشہ پر غیر قانونی اور غیر محفوظ سواری ہونے کا الزام لگاتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بنچ سے اس کیخلاف حکم امتناہی حاصل کر لیا۔'وہاڑی کے اس ہنرمند کو اڑھائی سال تک اپنی تخلیق پر سے بین اٹھوانے کیلئے قانونی لڑائی لڑنی پڑی۔ عدالتی حکم پر چھے ماہ تک لاہور میں موٹر سائکل رکشہ کے مختلف ماڈلز کا ٹیسٹ کیا گیا اور  آخرکار سال 94-1993 میں ٹیکنیکل لیبارٹری، لاہور نے اسے چلانے کی اجازت دے دی۔حاجی اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ٹرائی کے دنوں میں ہی یہ نئی سواری لاہور میں اتنی مقبول ہو گئی کہ پابندی اٹھنے کے کچھ ہی عرصہ بعد لاہور سے پورے پاکستان میں پھیل گئی۔موٹر سائیکل رکشہ کے آنے سے پاکستان میں علاقائی کاروبار کو فروغ ملا۔ ایک موٹر سائیکل رکشہ کی تیاری سے موٹرسائیکل ڈیلر، سپیئرپارٹس ڈیلر، پوشش میکر، پینٹر، ویلڈر، ٹائر ڈیلرز کے علاوہ آئرن سٹور والے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 1994ء میں چائنہ کی سہگل کمپنی نے انہیں رکشہ کی تیاری میں معاونت کرنے پر 60 ہزار روپے ماہانہ اجرت کی پیش کش کی تھی تاہم انہوں نے اپنے گھریلو مسائل کی وجہ سے انکار کر دیا۔حاجی اکرم کی تخلیقی کاوشوں کا سلسلہ یہی ختم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے 1993ء میں 125cc موٹرسائیکل کے انجن کی مدد سے ایک ایسی موٹر کار تیار کی۔ان کا دعوی ہے کہ اس کار کی رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ کار ایک لیٹر پٹرول میں 30 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔
وہاڑی میں ہونے والے نمائشی میلہ میں اس کار کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں تمام شعبہ کی ٹیکنیکل اور انفرادیت کی حامل چیزیں شامل تھیں۔ اس نمائش میں وہ پہلے نمبر پر آئے اور انہیں گورنر پنجاب خالد مقبول نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔حاجی اکرم کی تیسری ایجاد معذور افراد کے لیے سلف سٹارٹ موٹر سائیکل ہے۔ تین پہیوں پر مشتمل اس سواری کی تیاری معذور افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موٹر سائیکل کی تصویر فیچر کے شروع میں دیکھی جس سکتی ہے۔یہ موٹر سائیکل دونوں پاؤں اور ایک بازو سے معذور افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے معذور افراد اپنے علاوہ گھر والوں کو بھی ساتھ لا اور لیجا سکتے ہیں جس سے انہیں معذوری کے احساس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2013ء میں ایک پارک ٹرین تیار کی جو اب اسلام آباد کے سفاری پارک میں چل رہی ہے۔ اس کی تین بوگیاں ہیں اور اس پر 30 بچے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حاجی اکرم کی ایجادات کی بدولت جہاں آج ملک بھر میں چلنے والے موٹر سائیکل رکشاؤں سے منسلک لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی اپنے موٹرسائیکلوں کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں۔مگر آج تک وہاڑی کے اس کاریگر کی کاوش کو کسی سطح پر سراہا نہیں گیا۔حاجی محمد اکرم مغل جیسے ذہین اور ہنر مند شخص کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کے ذریعے ان جیسے اور سینکٹروں پاکستانی ہنرمندوں کو آگے آنے اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی تحریک دی جاسکتی ہے۔

Friday, 25 March 2016

نماز جمعہ اور اس کی فضیلت

جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ موکد ہے۔ یعنی ظہر کی نماز سے اس کی تاکید زیادہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالٰیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا اور ایک روایت میں ہے وہ منافق ہے اور اللہ سے بے علاقہ۔ اور چونکہ اس کی فرضیت کا ثبوت دلیل قطعی سے ہے لہٰذا اس کا منکر کافر ہے ۔

نماز جمعہ
جمعہ کے دن کی فضیلت
جمعہ کے دن کی فضلیت یہ ہے کہ یہ دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا (اور دُنیا میں) بھیجا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔ بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندہٴ موٴمن جو دُعا کرے وہ قبول ہوتی ہے، جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔ یہ تمام احادیث مشکوٰة شریف میں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں جمعہ کی فضیلت آئی ہے۔

نماز جمعہ کی رکعات
نماز جمعہ میں چودہ رکعت پڑھی جاتی ہیں۔

سنت مؤکدہ - 4
فرض - 2
سنت مؤکدہ - 4
سنت مؤکدہ - 2
نفل - 2
نماز جمعہ کی شرائط
جمعہ پڑھنے کے چھ شرطیں ہیں، کہ ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو (نہ پائی جائے ) تو جمعہ ہوگا ہی نہیں:

شہر یا شہر کے قائم مقام بڑے گاؤں یا قصبہ میںہونا یعنی وہ جگہ جہاں متعدد کوچے اور بازار ہوں اوروہ ضلع یا پرگنہ ہو اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ یونہی شہر کے آس پاس جو جگہ شہر کی مصلحتوں کے لیے ہو جسے فنائے مصر کہتے ہیں جیسے قبرستان، فوج کے رہنے کی جگہ، کچہریاں اسٹیشن وہاں بھی جمعہ جائز ہے اور چھوٹے گاؤں میںجمعہ جائز نہیں توجو لوگ شہر کے قریب گاؤں میں رہتے ہیں انھیں چاہیے کہ شہر میں آکر جمعہ پڑھیں۔
سلطان اسلام یا اس کا نائب جس نے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقید ہ ہو، احکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہوتا ہے لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں۔ وہ جمعہ قائم کرے ۔عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ۔ ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔
وقت ظہر یعنی وقت ظہر میں نماز پوری ہو جائے تو اگر اثنائے نماز میں اگر چہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہو گیا ظہر کی قضا پڑھیں۔
خطبہ جمعہ ، اور اس میں شرط یہ ہے کہ وقت میں ہو اور نماز سے پہلے اور ایسی جماعت کے سامنے جو جمعہ کے لیے شرط ہے اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں، اگر کوئی امر مانع نہ ہو اور خطبہ و نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہو جائے تو وہ خطبہ کافی نہیں۔
جماعت، یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد۔
اذنِ عام، یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو۔
جمعہ کی دوسری اذان
خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان کہی جائے اور سامنے سے مراد یہ نہیں کہ مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو کہ مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام منع کرتے اور مکروہ فرماتے ہیں اور اذانِ ثانی بھی بلند آواز سے کہیں کہ اس سے بھی اعلان مقصود ہے کہ جس نے پہلی نہ سنی اسے سن کر حاضر ہو اور خطبہ ختم ہو جائے تو فوراً اقامت کہی جائے ۔ خطبہ و اقامت کے درمیان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے۔

وجوب جمعہ کی شرائط
جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں، ان میں سے ایک بھی معدوم ہو تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا۔

شہر میں مقیم ہو
صحت ،لہٰذا ایسے مریض پر کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلے جانے میں مرض بڑھنے یا دیر میں اچھا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، جمعہ فرض نہیں
آزاد ہونا
مردہو نا
بالغ ہونا
۔عاقل ہونا اور یہ دونوں شرطیں خاص جمعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے وجوب میں عقل و بلوغ شرط ہے
انکھیارا ہونا، لہٰذا نابینا پر جمعہ فرض نہیں، ہاں جو اندھا مسجد میں اذان کے وقت باوضو ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔یونہی جونابینا بلاتکلیف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں ، راستوں میںچلتے پھرتے ہیں ان پر بھی جمعہ نماز فرض ہے
چلنے پر قادر ہونا، لہٰذا اپاہج پر جمعہ فرض نہیں
قید میں ہونا
بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا ۱۱۔مینہ یا آندھی یا اولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اس قدر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔

Monday, 14 March 2016

دستار فقر کی منتقلی


سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو۔ - See more at: http://alfaqr.net/Urdu/transfer-of-dastar-e-faqr#sthash.8zmdCSh3.dpuf
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو۔ - See more at: http://alfaqr.net/Urdu/transfer-of-dastar-e-faqr#sthash.8zmdCSh3.dpuf
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو۔ - See more at: http://alfaqr.net/Urdu/transfer-of-dastar-e-faqr#sthash.8zmdCSh3.dpuf
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو۔ - See more at: http://alfaqr.net/Urdu/transfer-of-dastar-e-faqr#sthash.8zmdCSh3.dpuf
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو۔ - See more at: http://alfaqr.net/Urdu/transfer-of-dastar-e-faqr#sthash.8zmdCSh3.dpuf

Wednesday, 9 March 2016

تصور اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

جس طرح اسمِ'' ''اللہ کا ذاتی نام ہے اور اس کی تمام صفات اور دیگر صفاتی ناموں کا احاطہ کرتا ہے اسی طرح اسم '' ''( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے اور اُن کی تمام صفات اور ذات کی تمام خوبیوں کا جامع ہے اور ان کی ذات سے سب سے زیادہ وابستہ ہے اسی لیے تصورِ اسم مجلسِ محمدی کی حضوری کے لیے سب سے پُر اثر اور طاقتور ذریعہ ہے۔ جو باطن میں دیدارِ الٰہی سے پہلے اہم مقام ہے۔ جسے مجلسِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کی حضوری حاصل ہوگئی اسے کامل دین حاصل ہوگیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں اسمِ ذات کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے اسرار و رموز کوبھی کھول کر بیان فرمایا ہے بلکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ مرشدِ کامل اکمل وہی ہے جو اسمِ ذات اور اسمِ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی راہ جانتا ہے۔ آپ اسمِ ذات کے ساتھ ساتھ اسمِ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے تصور کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری حیات مبارک میں صحابہ کرامؓ نے معرفتِ الٰہی کی تمام منازل اور مراتب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک کے دیدار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و نگاہِ کامل کی توجہ سے حاصل کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد آنے والے طالبانِ مولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسمِ مبارک کے توسط اور برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس تک باطنی طور پر رسائی حاصل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کرم و تاثیر سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مہربانی اور ساتھ کے بغیر آج تک نہ کوئی اللہ تک پہنچ پایا ہے نہ پہنچ پائے گا۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ کی توجہ حاصل نہ ہو' روح نہ زندگی پاتی ہے اور نہ وصال و معرفتِ الٰہی۔ موجودہ زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل سے فیض یاب ہونے کا ذریعہ ذکر و تصور اسمِ اور اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے جو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں لے جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب کا ساتھ نصیب کرتا ہے۔ اس مجلس میں صبر و استقامت' ادب و حیاء اور مکمل اطاعت و پیروی کے ساتھ دنیاوی تعلقات کو قطع کر کے مستقل حاضری کے بعد ہی ایک طالب اس لائق بنتا ہے کہ اسے محبوبیت کے مراتب حاصل ہوں اور اللہ کی معرفت و وصال نصیب ہو۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اسم ذات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اسم'''' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اسم ذات کا ہی حصہ قرار دیتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ عین الفقر میں فرماتے ہیں:

کی شرح یوں بھی ہے کہ فقر کی ابتدا اسمِ سے ہے یعنی فقراء اسم سے فقیر بنتے ہیں ا ور اسم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فخر ہے کہ اسم '''' اسم '''' میں تبدیل ہوجاتا ہے چنانچہ حدیثِ قدسی میں فرمان حق تعالیٰ ہے: ''اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو میں ہے اور میں تو ہوں۔'' یعنی یہ دو نام ایک ہی صنف سے ہیں اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایااَلْف
(فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے)۔
چنانچہ اسم'' '' درحقیقت اسی قوت اور اثر کا حامل ہے جو اسم کو حاصل ہے۔ لیکن اسمِ میں جلال بھی ہے جمال بھی، قہر بھی ہے لطف بھی جبکہ اسمِ '''' میں جمال ہی جمال اور رحمت ہی رحمت ہے۔ چنانچہ انسانی باطن پر اس کے اثرات زیادہ خوش کن ہیں۔ اسمِ کے تصور اور ذکر سے انسانی روح شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تابع ہوکر اللہ کی زیادہ تابع دار ہو جاتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اسم '''' ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے اثرات و کمالات کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جب طالب اللہ اسمِ ذات' اسم سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور کلمہ طیبہ کے تصور میں محو ہوتا ہے تو اس کے گناہ نورِ اسمِ ذات کے لباس میں چھپ جاتے ہیں۔ (محبت الاسرار)

جو شخص اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور کرتا ہے، ہر بات کے جواب میں نور محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے لب کشائی کرتا ہے۔ تصور کرنے والے پر اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تاثیر کرتا ہے۔ تصور اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کرنے والا روشن ضمیر ہو جاتا ہے اور عظمتِ عظیم' ہمراہیِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ' قلبِ سلیم' صراطِ مستقیم اسے حاصل ہو جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہم جسم' ہم قدم' ہم زبان' ہم شنو' ہم بینا ہو جاتا ہے۔ شریعت کا لباس پہنتا ہے۔ اسم '' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم '' میں چار حروف ہیں جس میں دونوں جہان ہیں۔ اس میں دونوں جہان کی خبریں منکشف ہوتی ہیں۔ (محبت الاسرار)

جس کسی کے وجود میں اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور (تصوراسم '''' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے) داخل ہو جائے اس شخص کا ہر کام نور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور کے چار طریق ہیں جن سے چار قسم کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔

I. اول یہ کہ جو کوئی اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور دل پر کرتا ہے تو اس کا قلب زندہ اور نفس مطلق مردہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تصور (نفس پر) امیر و غالب ہے۔ فناء فی اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس مرتبہ سے فقیر کامل ہو جاتا ہے۔

II. دوم یہ کہ جو کوئی اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور سے دل (کی ولایت) میں داخل ہو جاتا ہے اسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نصیب ہو جاتی ہے۔ وہ اس (مجلس) کو پالیتا' اس کی شناخت کر لیتا اور وہاں پہنچ کر اسے دیکھ لیتا ہے۔

III. سوم یہ کہ جو کوئی اپنے آپ کو اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں محو کر لیتا ہے تو اس تصور سے اس پرکُل و جز ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس کا وجود مغفور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:




ترجمہ: تاکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے (وسیلہ سے اُمت کے ) اگلے اور پچھلے (تمام) گناہ بخش دے۔ (سورۃ الفتح۔2)
ایسا صاحبِ تصور انسان ہونا چاہیے نہ کہ گائے گدھے کی صفات رکھنے والا حیوان۔

IV. چہارم یہ کہ جو کوئی اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور کی حاضرات سے اپنے آپ کو (حضورِ مجلس) میں حاضر کر لیتا ہے اور علم ناظرات کے وسیلہ سے اپنے آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر میں منظور کروا لیتا ہے اس کے دل میں کوئی آرزو باقی نہیں رہتی۔ اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نقش کا تصور ایسی راہ ہے جو پہلے ہی روز حضوری محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معرفت بخش دیتا ہے کیونکہ علم ہی حضوری کا گواہ ہے۔ (کشف الاسرار)
نفس کے حیلوں اور شیطان کی چالوں سے نجات ' ہر طرح کے جہل' کفر و شرک سے بچاؤ اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور میں محو ہو جانے سے ہی ممکن ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

طالبِ اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دماغ میں تصورِ اسم ''''اور تصورِ اسم '' صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم '' سے تصرف کرے تاکہ اُس کے مغز میں ذکرِ روح اور ذکرِ سِرّ کی تپش سے ایسی آگ بھڑکے جو اُسے خلافِ نفس و خلافِ زن و خلافِ دنیا و خلافِ شیطان کر دے۔ (محک الفقر کلاں)

اسمِ میں اسمِ اعظم ہے اور اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں صراطِ مستقیم ہے۔ (محک الفقر کلاں)

جو عالم باللہ اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں فنا ہوتا ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اولیاء اللہ کا منظور نظر ہوتا ہے۔ ایسا شخص عالم بھی ہوتا ہے اور عامل بھی اور فقیر کامل بھی اور حضور غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا منظورِ نظر مرید لایرید بھی۔ (فضل اللقاء)

اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور سے علم کی سچی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (کلیدِ جنت)

اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور کرنے والا جب اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت کا تصور کرتا ہے تو تمام ماسوائے اللہ کو ترک کر دیتا ہے۔ جس طرف بھی نگاہ کرتا ہے اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نظر آتی ہے۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باادب باحیاء عاشق' اللہ تعالیٰ کا معشوق بن جاتا ہے۔ (عقلِ بیدار )

جب طالب اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک مع ارواحِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہیں۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں ''میرا ہاتھ پکڑ۔'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے ۔ (کلیدِ جنت)
اسمِ اللہ  ذات کے منکر اسمِ ذات کے منکر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

''اسمِ ذات اور ذکر اور تصورِ اسمِ ذات سے منع کرنے والا شخص دو حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا' یا تو وہ منافق ہوتا ہے یا کافر یا پھر وہ حاسد ہو تا ہے یا متکبر۔(عین الفقر)

جو اسم ذات اور اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ ابوجہل ثانی ہے یا فرعون۔(قربِ دیدار)

  • جسے اسمِ ذات اور اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یقین نہیں وہ منافق ہے۔(محک الفقر کلاں)

Copyright @ 2016 zahid mobile shop mitroo road tarki stop mailsi.