'ایک دفعہ میرے ہمسائے میں موجود تانگے والے کو کہیں جانا تھا اور اس کیلئے اپنے گھوڑے کی دیکھ بھال کیلئے پیچھے کسی چھوڑنا ایک مسئلہ بنا ہوا تھا۔پھر ایک دن تانگے پر بیٹھے کوچوان کو بڑی بے دردی سے گھوڑے کو مارتے ہوئے دیکھا تو دل میں احساس پیدا ہوا کہ کیوں نہ گھوڑے کی جگہ موٹر سائیکل لگا کر اسے جدید شکل دے دی جائے۔'یہ تھے وہ محرکات جنہوں نے وہاڑی کے ایک مکینک محمد اکرم کو پاکستان میں پہلا موٹر سائیکل رکشہ بنانے پر مجبور کیا۔پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو روزگار اور سستی سفری سہولت 'موٹر سائیکل رکشہ یا چاند گاڑی' دینے کے دعویدار حاجی اکرم کی اس سلسلے میں محنت، جدوجہد اور قانونی لڑائی آپ اپنے اندر ایک مثال ہے۔سعودیہ سے پلٹ کر وہاڑی بازار میں خراد کا کام شروع کرنیوالے پانچویں پاس محمد اکرم کے پاس کوئی اعلیٰ تعلیمی ڈگری تو نہ تھی البتہ ایک وسیع تجربہ اور تخلیقی صلاحیتیں ضرور موجود تھیں۔ان کا پورا نام حاجی محمد اکرم عاصی مغل ہے اور اس وقت ان کی 505 روڈ، وہاڑی پر رکشہ میکنگ کی اپنی دکان ہے۔اپنے تخلیقی پہلو کے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ؛"وسائل کم ہونے کے باوجود میں نے اپنے خیال کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی اور آخر کار دن رات محنت کے بعد 1989ء میں پہلا موٹرسائیکل رکشہ تیار کر لیا۔"حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ پہلا تیار ہونے والا موٹر سائیکل رکشہ آرام دہ نہ تھا اور اس پر بمشکل ہی چھ سواریاں بیٹھ سکتی تھیں۔'اس رکشہ کی حد رفتار بھی 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ تاہم اس میں مزید جدت پیدا کرتے ہوئے سات سواریوں کے بیٹھنے کی گنجائش پیدا کر دی گئی۔'ان کے مطابق موٹر سائیکل رکشہ کو 1990ء میں ایک عوامی سواری کے طور پر مارکیٹ میں متعارف کروایا گیا۔'شروع میں رکشہ کیساتھ پرانے ٹو سٹروک یاماہا اور سوزوکی موٹر سائیکل لگائے جاتے تھے کیونکہ ٹو سٹروک موٹر سائیکل فور سٹروک کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ تجربات کے بعد سوزوکی موٹر سائیکل کو سب سے زیادہ کامیاب قرار دیا گیا۔' حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ پہلی بار احمد پور کے بیو پاریوں نے نئی موٹر سائیکل کے ساتھ رکشہ تیار کروایا تھا، جو بہت کامیاب تجربہ ثابت ہوا پھر یہ بہاولپور اور حاصل پور میں بھی عام ہوگیا۔موٹر سائیکل رکشہ بنا لینا کافی ثابت نہ ہوا کیونکہ مارکیٹ میں آتے ہی اس پر خطرناک سواری ہونے کا لیبل لگا کر اس کی راہ روکنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔'چونکہ موٹر سائیکل رکشہ کے آنے سے تانگے اور آٹو رکشہ مالکان خفا تھے چنانچہ ان کی یونین نے موٹر سائیکل رکشہ پر غیر قانونی اور غیر محفوظ سواری ہونے کا الزام لگاتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بنچ سے اس کیخلاف حکم امتناہی حاصل کر لیا۔'وہاڑی کے اس ہنرمند کو اڑھائی سال تک اپنی تخلیق پر سے بین اٹھوانے کیلئے قانونی لڑائی لڑنی پڑی۔ عدالتی حکم پر چھے ماہ تک لاہور میں موٹر سائکل رکشہ کے مختلف ماڈلز کا ٹیسٹ کیا گیا اور آخرکار سال 94-1993 میں ٹیکنیکل لیبارٹری، لاہور نے اسے چلانے کی اجازت دے دی۔حاجی اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ٹرائی کے دنوں میں ہی یہ نئی سواری لاہور میں اتنی مقبول ہو گئی کہ پابندی اٹھنے کے کچھ ہی عرصہ بعد لاہور سے پورے پاکستان میں پھیل گئی۔موٹر سائیکل رکشہ کے آنے سے پاکستان میں علاقائی کاروبار کو فروغ ملا۔ ایک موٹر سائیکل رکشہ کی تیاری سے موٹرسائیکل ڈیلر، سپیئرپارٹس ڈیلر، پوشش میکر، پینٹر، ویلڈر، ٹائر ڈیلرز کے علاوہ آئرن سٹور والے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 1994ء میں چائنہ کی سہگل کمپنی نے انہیں رکشہ کی تیاری میں معاونت کرنے پر 60 ہزار روپے ماہانہ اجرت کی پیش کش کی تھی تاہم انہوں نے اپنے گھریلو مسائل کی وجہ سے انکار کر دیا۔حاجی اکرم کی تخلیقی کاوشوں کا سلسلہ یہی ختم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے 1993ء میں 125cc موٹرسائیکل کے انجن کی مدد سے ایک ایسی موٹر کار تیار کی۔ان کا دعوی ہے کہ اس کار کی رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ کار ایک لیٹر پٹرول میں 30 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔
وہاڑی میں ہونے والے نمائشی میلہ میں اس کار کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں تمام شعبہ کی ٹیکنیکل اور انفرادیت کی حامل چیزیں شامل تھیں۔ اس نمائش میں وہ پہلے نمبر پر آئے اور انہیں گورنر پنجاب خالد مقبول نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔حاجی اکرم کی تیسری ایجاد معذور افراد کے لیے سلف سٹارٹ موٹر سائیکل ہے۔ تین پہیوں پر مشتمل اس سواری کی تیاری معذور افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موٹر سائیکل کی تصویر فیچر کے شروع میں دیکھی جس سکتی ہے۔یہ موٹر سائیکل دونوں پاؤں اور ایک بازو سے معذور افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے معذور افراد اپنے علاوہ گھر والوں کو بھی ساتھ لا اور لیجا سکتے ہیں جس سے انہیں معذوری کے احساس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2013ء میں ایک پارک ٹرین تیار کی جو اب اسلام آباد کے سفاری پارک میں چل رہی ہے۔ اس کی تین بوگیاں ہیں اور اس پر 30 بچے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حاجی اکرم کی ایجادات کی بدولت جہاں آج ملک بھر میں چلنے والے موٹر سائیکل رکشاؤں سے منسلک لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی اپنے موٹرسائیکلوں کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں۔مگر آج تک وہاڑی کے اس کاریگر کی کاوش کو کسی سطح پر سراہا نہیں گیا۔حاجی محمد اکرم مغل جیسے ذہین اور ہنر مند شخص کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کے ذریعے ان جیسے اور سینکٹروں پاکستانی ہنرمندوں کو آگے آنے اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی تحریک دی جاسکتی ہے۔
وہاڑی میں ہونے والے نمائشی میلہ میں اس کار کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں تمام شعبہ کی ٹیکنیکل اور انفرادیت کی حامل چیزیں شامل تھیں۔ اس نمائش میں وہ پہلے نمبر پر آئے اور انہیں گورنر پنجاب خالد مقبول نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔حاجی اکرم کی تیسری ایجاد معذور افراد کے لیے سلف سٹارٹ موٹر سائیکل ہے۔ تین پہیوں پر مشتمل اس سواری کی تیاری معذور افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موٹر سائیکل کی تصویر فیچر کے شروع میں دیکھی جس سکتی ہے۔یہ موٹر سائیکل دونوں پاؤں اور ایک بازو سے معذور افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے معذور افراد اپنے علاوہ گھر والوں کو بھی ساتھ لا اور لیجا سکتے ہیں جس سے انہیں معذوری کے احساس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2013ء میں ایک پارک ٹرین تیار کی جو اب اسلام آباد کے سفاری پارک میں چل رہی ہے۔ اس کی تین بوگیاں ہیں اور اس پر 30 بچے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حاجی اکرم کی ایجادات کی بدولت جہاں آج ملک بھر میں چلنے والے موٹر سائیکل رکشاؤں سے منسلک لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی اپنے موٹرسائیکلوں کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں۔مگر آج تک وہاڑی کے اس کاریگر کی کاوش کو کسی سطح پر سراہا نہیں گیا۔حاجی محمد اکرم مغل جیسے ذہین اور ہنر مند شخص کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کے ذریعے ان جیسے اور سینکٹروں پاکستانی ہنرمندوں کو آگے آنے اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی تحریک دی جاسکتی ہے۔

0 comments:
Post a Comment