وہاڑی میں ہونے والے نمائشی میلہ میں اس کار کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں تمام شعبہ کی ٹیکنیکل اور انفرادیت کی حامل چیزیں شامل تھیں۔ اس نمائش میں وہ پہلے نمبر پر آئے اور انہیں گورنر پنجاب خالد مقبول نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔حاجی اکرم کی تیسری ایجاد معذور افراد کے لیے سلف سٹارٹ موٹر سائیکل ہے۔ تین پہیوں پر مشتمل اس سواری کی تیاری معذور افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موٹر سائیکل کی تصویر فیچر کے شروع میں دیکھی جس سکتی ہے۔یہ موٹر سائیکل دونوں پاؤں اور ایک بازو سے معذور افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے معذور افراد اپنے علاوہ گھر والوں کو بھی ساتھ لا اور لیجا سکتے ہیں جس سے انہیں معذوری کے احساس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2013ء میں ایک پارک ٹرین تیار کی جو اب اسلام آباد کے سفاری پارک میں چل رہی ہے۔ اس کی تین بوگیاں ہیں اور اس پر 30 بچے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حاجی اکرم کی ایجادات کی بدولت جہاں آج ملک بھر میں چلنے والے موٹر سائیکل رکشاؤں سے منسلک لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی اپنے موٹرسائیکلوں کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں۔مگر آج تک وہاڑی کے اس کاریگر کی کاوش کو کسی سطح پر سراہا نہیں گیا۔حاجی محمد اکرم مغل جیسے ذہین اور ہنر مند شخص کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کے ذریعے ان جیسے اور سینکٹروں پاکستانی ہنرمندوں کو آگے آنے اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی تحریک دی جاسکتی ہے۔
Monday, 28 March 2016
محمد اکرم: چھوٹے ضلع کا بڑا کاریگر
وہاڑی میں ہونے والے نمائشی میلہ میں اس کار کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں تمام شعبہ کی ٹیکنیکل اور انفرادیت کی حامل چیزیں شامل تھیں۔ اس نمائش میں وہ پہلے نمبر پر آئے اور انہیں گورنر پنجاب خالد مقبول نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔حاجی اکرم کی تیسری ایجاد معذور افراد کے لیے سلف سٹارٹ موٹر سائیکل ہے۔ تین پہیوں پر مشتمل اس سواری کی تیاری معذور افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موٹر سائیکل کی تصویر فیچر کے شروع میں دیکھی جس سکتی ہے۔یہ موٹر سائیکل دونوں پاؤں اور ایک بازو سے معذور افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے معذور افراد اپنے علاوہ گھر والوں کو بھی ساتھ لا اور لیجا سکتے ہیں جس سے انہیں معذوری کے احساس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2013ء میں ایک پارک ٹرین تیار کی جو اب اسلام آباد کے سفاری پارک میں چل رہی ہے۔ اس کی تین بوگیاں ہیں اور اس پر 30 بچے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حاجی اکرم کی ایجادات کی بدولت جہاں آج ملک بھر میں چلنے والے موٹر سائیکل رکشاؤں سے منسلک لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی اپنے موٹرسائیکلوں کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں۔مگر آج تک وہاڑی کے اس کاریگر کی کاوش کو کسی سطح پر سراہا نہیں گیا۔حاجی محمد اکرم مغل جیسے ذہین اور ہنر مند شخص کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کے ذریعے ان جیسے اور سینکٹروں پاکستانی ہنرمندوں کو آگے آنے اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی تحریک دی جاسکتی ہے۔
Friday, 25 March 2016
نماز جمعہ اور اس کی فضیلت
جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ موکد ہے۔ یعنی ظہر کی نماز سے اس کی تاکید زیادہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالٰیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا اور ایک روایت میں ہے وہ منافق ہے اور اللہ سے بے علاقہ۔ اور چونکہ اس کی فرضیت کا ثبوت دلیل قطعی سے ہے لہٰذا اس کا منکر کافر ہے ۔
نماز جمعہ
جمعہ کے دن کی فضیلت
جمعہ کے دن کی فضلیت یہ ہے کہ یہ دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا (اور دُنیا میں) بھیجا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔ بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندہٴ موٴمن جو دُعا کرے وہ قبول ہوتی ہے، جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔ یہ تمام احادیث مشکوٰة شریف میں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں جمعہ کی فضیلت آئی ہے۔
نماز جمعہ کی رکعات
نماز جمعہ میں چودہ رکعت پڑھی جاتی ہیں۔
سنت مؤکدہ - 4
فرض - 2
سنت مؤکدہ - 4
سنت مؤکدہ - 2
نفل - 2
نماز جمعہ کی شرائط
جمعہ پڑھنے کے چھ شرطیں ہیں، کہ ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو (نہ پائی جائے ) تو جمعہ ہوگا ہی نہیں:
شہر یا شہر کے قائم مقام بڑے گاؤں یا قصبہ میںہونا یعنی وہ جگہ جہاں متعدد کوچے اور بازار ہوں اوروہ ضلع یا پرگنہ ہو اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ یونہی شہر کے آس پاس جو جگہ شہر کی مصلحتوں کے لیے ہو جسے فنائے مصر کہتے ہیں جیسے قبرستان، فوج کے رہنے کی جگہ، کچہریاں اسٹیشن وہاں بھی جمعہ جائز ہے اور چھوٹے گاؤں میںجمعہ جائز نہیں توجو لوگ شہر کے قریب گاؤں میں رہتے ہیں انھیں چاہیے کہ شہر میں آکر جمعہ پڑھیں۔
سلطان اسلام یا اس کا نائب جس نے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقید ہ ہو، احکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہوتا ہے لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں۔ وہ جمعہ قائم کرے ۔عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ۔ ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔
وقت ظہر یعنی وقت ظہر میں نماز پوری ہو جائے تو اگر اثنائے نماز میں اگر چہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہو گیا ظہر کی قضا پڑھیں۔
خطبہ جمعہ ، اور اس میں شرط یہ ہے کہ وقت میں ہو اور نماز سے پہلے اور ایسی جماعت کے سامنے جو جمعہ کے لیے شرط ہے اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں، اگر کوئی امر مانع نہ ہو اور خطبہ و نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہو جائے تو وہ خطبہ کافی نہیں۔
جماعت، یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد۔
اذنِ عام، یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو۔
جمعہ کی دوسری اذان
خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان کہی جائے اور سامنے سے مراد یہ نہیں کہ مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو کہ مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام منع کرتے اور مکروہ فرماتے ہیں اور اذانِ ثانی بھی بلند آواز سے کہیں کہ اس سے بھی اعلان مقصود ہے کہ جس نے پہلی نہ سنی اسے سن کر حاضر ہو اور خطبہ ختم ہو جائے تو فوراً اقامت کہی جائے ۔ خطبہ و اقامت کے درمیان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے۔
وجوب جمعہ کی شرائط
جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں، ان میں سے ایک بھی معدوم ہو تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا۔
شہر میں مقیم ہو
صحت ،لہٰذا ایسے مریض پر کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلے جانے میں مرض بڑھنے یا دیر میں اچھا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، جمعہ فرض نہیں
آزاد ہونا
مردہو نا
بالغ ہونا
۔عاقل ہونا اور یہ دونوں شرطیں خاص جمعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے وجوب میں عقل و بلوغ شرط ہے
انکھیارا ہونا، لہٰذا نابینا پر جمعہ فرض نہیں، ہاں جو اندھا مسجد میں اذان کے وقت باوضو ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔یونہی جونابینا بلاتکلیف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں ، راستوں میںچلتے پھرتے ہیں ان پر بھی جمعہ نماز فرض ہے
چلنے پر قادر ہونا، لہٰذا اپاہج پر جمعہ فرض نہیں
قید میں ہونا
بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا ۱۱۔مینہ یا آندھی یا اولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اس قدر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔
Monday, 14 March 2016
دستار فقر کی منتقلی
سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی دستارِ فقر کی منتقلی کے روح پرور اور یادگار لمحات کی تاریخی وڈیو
Wednesday, 9 March 2016
تصور اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری حیات مبارک میں صحابہ کرامؓ نے معرفتِ الٰہی کی تمام منازل اور مراتب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک کے دیدار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و نگاہِ کامل کی توجہ سے حاصل کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد آنے والے طالبانِ مولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسمِ مبارک کے توسط اور برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس تک باطنی طور پر رسائی حاصل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کرم و تاثیر سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مہربانی اور ساتھ کے بغیر آج تک نہ کوئی اللہ تک پہنچ پایا ہے نہ پہنچ پائے گا۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ کی توجہ حاصل نہ ہو' روح نہ زندگی پاتی ہے اور نہ وصال و معرفتِ الٰہی۔ موجودہ زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل سے فیض یاب ہونے کا ذریعہ ذکر و تصور اسمِ
|
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اسم |
|
| |
| جب طالب اللہ اسمِ |
|
| جو شخص اسم |
|
| جس کسی کے وجود میں اسم |
|
| اسم |
| I. | اول یہ کہ جو کوئی اسم |
|
| II. | دوم یہ کہ جو کوئی اسم |
|
| III. | سوم یہ کہ جو کوئی اپنے آپ کو اسم |
|
| ترجمہ: تاکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے (وسیلہ سے اُمت کے ) اگلے اور پچھلے (تمام) گناہ بخش دے۔ (سورۃ الفتح۔2) ایسا صاحبِ تصور انسان ہونا چاہیے نہ کہ گائے گدھے کی صفات رکھنے والا حیوان۔ |
||
| IV. | چہارم یہ کہ جو کوئی اسم |
| طالبِ اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دماغ میں تصورِ اسم '' |
|
| اسمِ |
|
| جو عالم باللہ اسم |
|
| اسم |
|
| اسم |
|
| جب طالب اسم |
| ''اسمِ |
|
| جو اسم |
|
|

